27
JUN
2015

Shia Per Fatwa, Deobandi Ashraf Ali Thanvi Or Gorakh Dhanda

Posted By :
Comments : Off

امداد الفتاویٰ جلد چہارم صفحہ 584 پر مولوی عبدالماجد دریا بادی نے بڑے رقت آمیز انداز میں چند سوالات پوچھے ہیں اور شیعہ کی تکفیر پر اپنے تحفظات اور خلش کا اظہار کرتے ہوئے اشرف علی تھانوی سے گزارش کی ہے کہ اس بارے میں تشفی کر دی جائے۔ جواب میں تھانوی صاحب نے جو مثال پیش کی ہے، ذرا وہ ملاحظہ ہو۔

 

1.png

 

یعنی تھانوی جی شیعہ کے خلاف اپنے فتویٰ کی توضیح حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ کے منصور بن حلاج علیہ الرحمہ کے خلاف فتویٰ کے ذریعے سے دے رہے ہیں اور اس بارے میں خود کو حضرت جنید علیہ الرحمہ کا متبع کہہ رہے ہیں۔ اس توضیح کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ تھانوی صاحب کی نظر میں حضرات جنید و منصور کا باہم معاملہ اصل میں ہے کیا۔ ملاحظہ کیجئے کتاب “سیرت منصور حلاج” جو اشرف علی تھانوی کی زیر نگرانی ظفر علی عثمانی نے تالیف کی ہے۔ اس کے صفحہ 82 پر ہے

 

2.png

 

عجیب بات ہے۔ یہاں تو تھانوی صاحب کے اپنے ہی قول کا ردّ لکھا ہے کہ حضرت جنید علیہ الرحمہ نے جناب منصور علیہ الرحمہ کے جواز قتل پر فتویٰ دیا تھا، کیونکہ حضرت جنید کی وفات اس واقعہ کے قریب دس بارہ برس قبل ہو چکی تھی۔ مزید برآں ظفر عثمانی کے بقول اگر جنید اس وقت حیات ہوتے بھی تو حضور غوث الاعظم علیہ الرحمہ کے فرمان کی روشنی میں منصور کا خلاف کرنے کے بجائے ان کی دستگیری فرماتے۔

چلئے ہم مان لیتے ہیں کہ عبدالماجد دریا بادی کو جواب دیتے وقت تھانوی صاحب سے غلطی ہو گئی، کہ غلطی آخر کو انسان ہی سے ہوا کرتی ہے۔ بہرکیف، حضرت جنید نہ سہی، دیگر علماء نے تو قتل منصور کا فتویٰ دیا ہی تھا، تو تھانوی صاحب کے شیعہ کے خلاف فتوے کی توضیح ان علماء کے عمل سے سمجھ لیتے ہیں۔ اسی کتاب سیرت منصور حلاج کا صفحہ 97 اور 98 ملاحظہ فرمائیے۔

 

3.png

 

4.png

یعنی بقول ظفر عثمانی (مع تائید اشرف علی تھانوی) وہ فتویٰ دھینگا دھینگی، زبردستی، جبراً مرتب کرایا گیا اور وہ فتویٰ، شرعی فتویٰ کہلانے کا مستحق نہیں بلکہ وزارت و حکومت کا فتویٰ تھا۔

گویا تھانوی صاحب نے کانپتے ہاتھوں سے شیعہ کے کفر پر جو فتویٰ دیا، وہ دھینگا دھینگی سے، زبردستی یا جبراً دیا۔ مزید برآں، کیا تکفیر شیعہ کا فتویٰ، فتویٰ شرعیہ کے بجائے فتویٰ وزارت و حکومت کہلانے کا حقدار نہیں ہے؟ حالانکہ اشرف علی تھانوی نے خود اپنے منہ سے شیعہ کے خلاف فتویٰ دینے کی توضیح منصور حلاج کے فتویٰ قتل کی مثال کے ذریعے سے پیش کی ہے۔

ہو سکتا ہے اس پر یہ کہا جائے کہ تھانوی صاحب نے تو حضرت جنید علیہ الرحمہ کے بارے میں کہا تھا، جبکہ اصل میں فتویٰ دینے والے علماء میں حضرت جنید شامل ہی نہیں۔ مگر یہ بات انہیں مفید نہیں۔ کیونکہ ظفر عثمانی نے حضور غوث پاک علیہ الرحمہ کے فرمان کے تحت یہ بھی صراحت کر دی کہ اگر بالفرض حضرت جنید اس وقت موجود ہوتے تو منصور کی دستگیری کرتے۔ ایسے میں تھانوی کا شیعہ کے خلاف فتویٰ کفر کے بارے میں خود کو حضرت جنید کا متبع قرار دینے کاکیا معنی ہے؟ دانش منداں را اشارہ کافی است۔

مؤکلین حضرات اگر چکرا نہ جائیں تو اس سارے گورکھ دھندے کی کچھ وضاحت فرما دیں۔